Estb. 1882

University of the Punjab

News Archives

Press Release

کشمیر کے بغیر پاکستان کی آزادی نامکمل ہے ۔شمشاداحمد خان
کشمیر کے بغیر پاکستان کی آزادی نامکمل ہے ۔شمشاداحمد خان


لاہور(پ ر )کشمیر پاکستان کا اان فنشڈ ایجنڈا ہے جب تک کشمیر مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتا قیام پاکستان کا عمل مکمل نہیں ہوسکتا یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب اور پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاداحمد خان نے شعبہ اردو،پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج کے زیراہتمام کشمیر اور عالمی ضمیر کے زیرعنوان منعقد کیے جانے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انھں نے کہاکہ اگرچہ عملی دنیامیں عالمی ضمیر نام کی کوئی شے موجود نہیں ہوتی لیکن ہمیں بہ ہر حال اپنا فرض اداکرنا ہے اور مسائل کی جڑ کو باہر ہی نہیں اندر بھی تلاش کرناہے ۔قوموں کا ماضی کے بغیر کوئی مستقبل نہیں ہوتا ہمارے سفارت کاروں کو چاہیے کہ وہ دوست ممالک میں رائے عامہ کو پاکستان کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کریں تقریب سے خاطب کرتے ہوئے صدر شعبہ اردو اورینٹل کالج ڈاکٹر زاہدمنیرعامر نے نسل نو کومسئلہ کشمیر کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت سے آگاہ کرنے کی ضرورت پر زوردیاانھوں نے بتایاکہ وہ اس مقصد کے لیے شعبہ اردومیں سلسلہ تقاریب کا آغازکرچکے ہیں اور آج کی یہ تقریب بھی انھی مقاصد کے حصول کے لیے منعقدکی جارہی ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ,ڈاکٹر خواجہ زاہد عزیز (استاد شعبہ کشمیریات)نے ریاست جموں وکشمیر کی تاریخی و جغرافیائی حیثیت سے طلبہ و طالبات کو آگاہ کیا۔انھوں نے کہا کہ رقبے کے لحاظ سے ریاست کشمیر دنیا کی 110 ریاستوں سے بڑی ہے لہٰذا یہ پوری دنیا پہ اثر انداز ہونے والا مسئلہ ہے۔انھوں نے 1846 کے معاہدہ امرتسر کو بدترین انسانی سودا قرار دیا۔
ڈاکٹر محمد ارشد(چیف ایڈیٹر اردو دائرہء معارف اسلامیہ) نے "کشمیر اور علامہ اسد " کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کشمیر کےلئے علامہ اسد کی خدمات سے حاضرین کو آگاہ کیا۔تقریب میں پنجاب یونی ورسٹی اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسرڈاکٹرممتازانورچودھری سیکریٹری جنرل جناب جاویدسمیع پروفیسر اردو ڈاکٹر ضیاالحسن ،ڈاکٹر ناصر عباس نیر ،صدر شعبہ پنجابی پروفیسرڈاکٹر نبیلہ رحمان،شعبہ کشمیریات کی اساتذہ ڈاکٹر نادیہ، ڈاکٹر ثمینہ ،شماریات کے استاد رانا منور اقبال ،لاکالج کے استاد ڈاکٹرافتخارتارڑ،ادارہ تعلیم و تحقیق سے ڈاکٹر راناعبدالماجد خان،فارمیسی سے ڈاکٹر فاطمہ رسول،سائیکالوجی سے ڈاکٹر رافعہ رفیق ،چیپ سے ڈاکٹر ابرارظفر،ادارہ علوم انتظامی سے ڈاکٹر حافظ اظہر،باٹنی سے ڈاکٹر عبدالرحمن نیازی ،کیمسٹری سے ڈاکٹر احسان شریف اور پاکستان سٹڈی سنٹر سے ڈاکٹر کریم حیدرسید اورطلبہ و طالبات نے بھی بھرپور انداز میں اس تقریب میں حصہ لے کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانوں سے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ میزبانی کے فرائض ایم اے اردو سال دوم سے مشاہد حسین ہاشمی اور زرش نواز نے ادا کیے۔ ایم اے اردوسال اول کی طالبہ عطیہ امانت نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ محمد عمر فاروق متعلم ایم اے اردو سال دوم نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ہدیہ عقیدت پیش کیا۔شعبہ اردو کے طالب علموں نے اپنی تخلیقی کاوشوں کے ذریعے اہل کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ سال دوم سے صدف رباب اور سال اول سے بلال عبدل نے کشمیر اور کشمیریوں کی موجودہ صورت حال کو اپنی نظموں میں بیان کیا۔نظموں کے بعد نیلم رزاق(متعلمہ ایم اے اردو سال اول)نے مشہور کشمیری ترانہ"کریو منزِجگرس جائے شمنو مائے ماشانی" گا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔شعبہ اردو کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انیلا سلیم نے سٹیج پر آکر مہمان خصوصی شمشاد احمد خان صاحب کا تعارف کرواتے ہوئے ان کی شخصیت کے کمالات سے حاضرین کو آگاہ کیا۔نہیں۔تقریب کے بعد شمشاداحمد خان اپنے میزبانوں سے گھل مل گئے اور انھوں نے اپنے دور طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے یونی ورسٹی کی قدیم تاریخ اور عمارات کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیا۔۔تقریب کے اختتام پر صدر شعبہ اردوڈاکٹرزاہدمنیرعامر نے شعبہ اردوکے زیراہتمام منعقدہونے والے سیمینار "نیدرلینڈزمیں اردو"میں بہترین مضمون پیش کرنے پرایم اے اردو سال دوم کی طالبہ یاسمین اعتبار کو اعزازی سند سے نوازا۔صدرشعبہ نے ڈاکٹر محمد ارشد اور ڈاکٹر خواجہ زاہد عزیز کو گل دستے پیش کیے۔مہمان خصوصی شمشادحمد خان کو پھولوں کا تحفہ اور اعزازی شیلڈ پیش کرنے کے بعدیہ یادگار تقریب اختتام پذیرہوئی۔