لاہور(پ۔ر) پنجاب یونیورسٹی نے برصغیر پاک و ہند میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کی خدمات کا جائزہ اور اس موضوع پر تحقیق بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ان خیالا ت کااظہار مقررین نے ادارہ تالیف و ترجمہ کے زیر اہتمام شایع ہونے والی کتاب ’’پنجاب یونیورسٹی میںاردو: شعبے سے ادارے تک‘‘ کی تقریب اجراء میں کیا۔تقریب کی صدارت ڈین کلیہ علوم شرقیہ و پرنسپل اورینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی نے کی۔ ممتاز مورخ اوربیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر طاہر کامران نے اس کتاب کی اشاعت کو یونیورسٹی کی تاریخ محفوظ کرنے کے سلسلے میں ایک اہم کوشش قراردیا۔ ممتاز دانش ور ، شاعر اور سابق بیوروکریٹ جناب جمیل یوسف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کتاب میں فراہم کی گئیں معلومات کوچشم کشا قرار دیا۔ انہوںنے کتاب میںبیان کی گئی تفصیلات کی وسیع اشاعت کی ضرورت پر زور دیا۔ شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم نے تعلیمی تاریخ کے ساتھ تہذیبی تاریخ کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مقررین نے ڈاکٹرزاہدمنیرعامرکے اس ادارے کی سربراہی سنبھالنے کو ادارے کے لیے نیک فال قراردیااورتوقع ظاہرکی کہ ان کی سربراہی میں ’’پنجاب یونی ورسٹی میں اردو‘‘جیسے اور بھی بہت سے قابل قدرمنصوبے مکمل ہوکر شائع ہوں گے۔ تقریب میں سماجی تاریخ نویسی اور تعلیمی منظر نامہ کے حوالے سے شرکا نے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب میں صدر شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد جواد ، اقامتی آفیسر(اوّل )کرنل (ر) عمر ، اقامتی آفیسر (دوم) جلیل طارق، ڈائریکٹرپنجاب یونیورسٹی پریس اینڈ پبلی کیشن ظہور احمداعوان، انجینئر ابوبکر، سینٹر فار قرآن و سنت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حارث مبین نے شرکت کی |